طبقاتی سوال سے منکر تو کیسے ؟

تحریر: مشکین بلوچ

دنیا میں تمام کلچر، زبان اور روایات وہاں کے جغرافیہ اور اور ذرائع معاش سے ہمہ وقت جڑی ہوتی ہیں۔ کارل مارکس تاریخی مادیت کو واضح الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘انسانی تاریخ دو طبقات کے بیچ تضادات و کشمکش کی تاریخ ہے۔ جب دو طبقات اپنے درمیان عدل نہیں کر سکے تو ان کے بیچ اس تضاد نے نئے نظام کی بنیاد رکھی ہے’۔

اس بات سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے کہ صنعت کی بلندی سے ذرائع پیداوار کو ایک ہی بلڈنگ کے اندر اور ترسیل کو دنیا کے اندر تک پھیلایا گیا جس میں شروعات میں تو یہ تضاد چونکہ موجود تھا جبکہ انسانی زندگی میں مسلسل بہتری کی وجہ سے اظہار نہیں ہو سکا۔ جیسے جیسے بحران بڑھتا گیا تو بحران شدید تر ہوتا گیا اور سرمایاداری کے نامیاتی بحران میں یہ وحشت ناک شکل اختیار کر گیا جس نے نہ صرف صنعتی شہروں میں ہلچل مچا دی بلکہ نیم صنعتی اور ذراعت کے شعبے تک پہنچ گئی۔ آج دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کی ذد میں پوری دنیا آ چکی ہے۔

سرمایہ داری کی بحران کا اظہار دنیا کے ہر کونے میں اپنے بساط اور کردار کے مطابق ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں کسانوں کی بڑی تعداد نے ٹریکٹر مارچ کا آغاز کرکے مودی اینڈ کمپنی حکومت کو مفلوج کردیا ہے۔ امریکہ جیسے عظیم طاقت ریاستوں میں بلیک لائیوز میٹر کے نام پر عوام اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس طرح مشرق میں بھی عرب اسپرنگ کے بعد اٹھنے والی مسلح اور عوامی تحریکیں تھم نہ سکی ہیں۔ ان دو دہائیوں میں دنیا بھر میں مختلف تحریک مرحلہ وار ابھرتے رہے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے انقلابی قیادت کی عدم موجودگی کی وجہ سے ذائل ہو گئے ہیں۔

اس طرح بلوچستان میں ساحل و وسائل کے مالک بلوچ عوام پے در پے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتی رہی ہے جہاں شروعات میں سرداروں نے اس تحریک کی سربراہی کی اور قبائلی طرز پر تحریک کے دائرے محدود تھے۔ قبائلی داخلی تضادات کے اردگرد ہی اتحاد اور تحریک کا رویہ چلتا رہا جبکہ تیسرے مرحلے میں اس تحریک کی قیادت عام بلوچ مڈل کلاس کے ہاتھ آگیا اور قومی تحریک مسلح اور غیر مسلح بنیادوں پر چلتا رہا۔ مختلف رکاوٹوں کے باوجود تحریک کمزور ضرور ہوا لیکن خاتمہ نہ ہو سکا۔

بلوچستان میں چلنی والی تحریک براہ راست تو قومی تحریک تھی لیکن اس میں ایندھن طبقاتی ہی رہی ہے۔ قیادت اگر اوپر کے طبقے کے پاس رہا تو نیچے کارکن ہمیشہ نچھلا طبقہ ہی رہا اور سیاست بھی اسی نچھلے طبقے کے ارد گرد رہا ہے۔ اور اس تحریک میں اگر کوئی دلیل دیا جاتا تو اسی نچھلے طبقے کی “نت شپادی، بزگی، لاچاری، لنگڑی” کا چہرہ دنیا کو دکھا کر تحریک کے لیے سفارتکاری کی گئی ہے۔
اس تحریک کی کامیابی بھی سن اکہتر کے بعد نچھلے طبقے کو شامل کرنے بعد زیادہ زور پکڑتا گیا اور تحریک کی منشور کا جائزہ لیا جائے تو منشور نچھلے طبقے کی ہی ہے۔ اب یہاں بات یہ آتی ہے کہ دانشور مسلسل قومی تحریک اور طبقاتی سوال کو آپس میں متصادم قرار دیتے ہیں جبکہ یہ دونوں ازل سے ایک دوسرے کے ساتھ انٹر لنکڈ ہیں۔
بلوچ قومی تحریک میں بلوچ نچھلے طبقے کی بات کرکے نچھلے طبقے کے بلوچ کو بنیاد بنا کر مسلسل جڑت قائم کی جاتی رہی ہے۔ تو اس تحریک پر طبقاتی سوال واضح اور غالب ہے۔

یہاں طبقاتی سوال کو صرف چند سرداروں کی چند مثال پیش کرکے جٹلایا جاتا ہے کہ یا ان کے چند قربانیوں سے غیر طبقاتی جدوجہد قرار دیتے ہیں بلکہ اوپر کے طبقے کو برابر کا حصہ دار قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ جدید نوآبادیات میں ایک نئے اوپری طبقے کی جنم بھی ہوتی ہے۔ نئے میٹروپولیسس تعمیر ہوتی ہے۔ پرانے افسر شاہی کی جگہ مقامی افسر شاہی لیتی ہے۔ مقامی لوگ ہی استحصالی مشینری کے پرزے بن جاتے ہیں اور جہاں پچھلے جاگیردار کارآمد نہیں ہوتے تو نچھلے طبقے سے کچھ لوگوں کو پورا اختیار اور طاقت دے کر پرزا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں جدید نوآبادی اپنے استحصال اور ظلم کو ساختیت میں تبدیل کر دیتا ہے۔

کبھی کبھار غیر صنعتی شہروں میں طبقاتی سوال کو اس لیئے بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہاں سرمایہ داری نے ابھی تک جنم نہیں لی جبکہ دیکھا جائے تو سرمایہ داری کی منڈی وہاں موجود ہوتی ہے اور دو طبقات مکمل طور پر واضح ہوجاتے ہیں۔ لیکن وہ جدید نیولبرل چارم نظر نہیں آتا جبکہ سرمایہ داری کی نقل و حرکت جاری رہتی ہے اور کہیں خام مال بھی نکالا جاتا ہے جوکہ بنیادی طور پر سرمایہ داری کو زندہ رکھا ہوا ہوتا ہے۔ جیسے دیکھا جائے خلیج میں آج تک سرمایہ دارانہ انقلاب تو برپا نہیں ہوا لیکن سرمایاداری اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اوپر اثر رسوخ کے ساتھ موجود ہیں اور ایک بہت بڑی مارکیٹ کی ترسیل بھی موجود ہے۔

تو یہاں پر بات یہ آتا ہے کہ قومی سوال میں اگر طبقاتی استحصال موجود نہیں ہوتا تو کیوں ان امیروں کے بچوں کو موضوع بنا کر پیش نہیں کیا جاتا۔ ان کے گھر اور کھانا پکاتے عورتوں کے تصویر دکھا کر ہمدردی نہیں وصول کیا جاتا، یا پریس کلب کے سامنے آئے روز آنے والے کس طبقے سے وجود رکھتی ہیں۔ لاپتہ افراد میں کس طبقے سے زیادہ لوگ ہیں۔ پوری کی پوری تحریک کا موضوعی عنصر صرف غریب اور استحصال ذدہ طبقہ ہی ہے۔ تو پھر قومی جدوجہد سے طبقاتی نقطہ کو نکالنا غیر منطقی اور ذیادتی ہے اور نا ہی اس سے انکار ممکن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *