بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جامعہ بلوچستان یونٹ نے آج بروز پیر ” عصر حاضر اور طلباء سیاست” کے موضوع پر ایک اسٹڈی سرکل منعقد کیا۔ جس میں بی ایس او کے مرکزی سیکریٹری جنرل چنگیز بلوچ نے لیڈ آف دی اور کاروائی حکمت قمبر نے چلائی۔

رپورٹ: بی ایس او جامعہ بلوچستان یونٹ

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جامعہ بلوچستان یونٹ کی جانب سے آج بمورخہ 11 اکتوبر کو ” آج کی دنیا اور طققلباء سیاست” کے موضوع پر اسٹڈی سرکل کا انعقاد کیا جس میں متعدد ساتھیوں نے شاندار اور مفصل انداز سے اپنی کنٹریبیوشن دی۔

بی ایس او کے سیکریٹری جنرل چنگیز بلوچ نے طلباء سیاست کی تاریخی پس منظر، ظہور اور اس کے ارتقائی عمل، مختلف ادوار میں طلباء سیاست کی الگ اشکال، شدت اور نوعیتوں پر ایک انتہائی عمدہ اور تفصیلی بحث رکھی۔ اس کے علاوہ، مختلف ممالک میں طلباء تحریکوں اور سیاسی عمل اور فضاء میں ان کے موثر کارکردگی پر بھی مفصل گفتگو کی۔ مزید براں، طلباء سیاست میں بتدریج اتار چڑھاو، قانونی و غیر قانونی قدغنوں، طلباء سیاست کو زاتی و گروہی مفادات کیلئے استعمال اور مسلسل استحصال کرنے کے عمل پر بھی خوبصورت انداز میں بات رکھی گٸی۔ جس سے موضوع بالا ہر پہلو سے واضح ہوگیا۔ اس کے علاوہ، عصر حاضر کے تقاضے اور نظریاتی و عملی بنیادوں پر معروضی صورتحال کو قابل تسخیر لانا اور انھیں اپنی اجتماعی و قومی مفادات کے حق میں ڈھالنے کیلئے بھی ایک نظریاتی اور عملی روڈ میپ بھی دیا اور روایتی و عوام دشمن سیاسی و سماجی نظام یا status quo کے تغیر کیلئے ہم مسلسلی مطالعہ، نظریاتی سیاست، واضح سمت، وژن اور جہد مسلسل کو بطور اپنا فیشن اور کلچر اپنانے اور پروان چڑھانے سے بدل سکتے ہیں اور حقیقی معنوں میں ایک بامعنی اور بامقصد انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بی ایس او کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری جیئند بلوچ نے بھی قومی و علاقائی تناظر میں طلباء سیاست اور آج کے سیاسی تقاضوں پر بھی ایک جاندار اور خوبصورت بحث رکھی اور موصوف نے دعویٰ کیا کہ آج معروضی حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی صفوں کو مضبوط و مستحکم قائم رکھیں اور اپنی جدوجہد میں تیزی لائیں اور حالات کا مقابلہ کرکے اپنے عظیم منزل کی جانب گامزن رہیں۔ تب ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اپنے ممبرز اور ساتھیوں کی علمی و فکری اور سیاسی و نظریاتی ڈیولپمنٹ اور کیڈرسازی مہم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس طرح کے علمی و فکری پروگرامز پہ در پہ منعقد کر رہا ہے جو کہ عظیم مقصد کی جانب مثبت پیش رفت سمجھا جاتا ہے اور روشن مستقبل کیلئے ضمانت کی کنجی ہے۔

بحث کو سمیٹتے ہوئے ساتھیوں نے اپنی سیاسی و فکری اور نظریاتی تعلیم و تربیت کے انقلابی عمل پر توجہ دینے اور جہد مسلسل کا عہد و پیمان کیا۔ کتاب و قلم سے اپنی دوستی کو مضبوط بنانے اور کتب بینی کلچر کو عام کرنے اور اپنی سیاسی ڈیولپمنٹ کو اولین ترجیح میں لانے کا بھی بھرپور عزم اور عہد کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.